‘Bottle Like People’

‘بوتل جیسے لوگ’

سنا ہے ہزار آنسووں کا سفر
وہ بے بہا نمکین آبشار کا گزر
شروع اک ننھا خدشہ مثل صفر۔
بوتل جیسے لوگ بہت
خدشوں کو اپنے میں بھرتے ہیں
سنیچ سینچ کر اپنے غم بھرتے ہیں
آہ و الم کی شراب کشید کرتے ہیں
حتیٰ کہ ڈاٹ دور تلک پھٹتی ہے
رنج کی چاشنی لہو لہو شراب انڈلتی ہے۔
چیخوں اور غصہ کی متلی پھر
اک بار پھر ‘سکھ’ میں بدلتی ہے۔

‘Bottle-like People ‘

The journey of a thousand tears,
That cascading fall of salty water,
Begins with a single fear.
Bottle the fears
Stuffing and shoving
Every bitterness
A flavour –
Like aged wine.
Till the time comes
Out pops the tightly held cork
Effervesence of emotions stiffled.
Rinse and wipe your mouth,
Afterwards like a good purgation.

Advertisements

یقین

مایوس کیوں ہو؟
چلو دوست کی وفا مہین سہی۔۔۔
کیا رب کی عطا پہ یقین ،نہیں؟
معجزے ہوتے ہی تب ہیں
جب کوئی ان پہ مضبوط یقیں رکھتا ہے۔
آخیر شب میں جو موتی چشم سے گرتا ہے۔
عرش والوں کے سامنے قدر ، گراں رکھتا ہے۔
خم کاندھے ، شکستہ جبیں ، سجودتہجد ،
تیرا رب ان سے حیا رکھتا ہے۔
“لا تقنطو من رحمت اللہ ” کے فریاد ی سے
تیرا رب حب رکھتاہے!
سہارا جو ٹوٹنے نہ دے ،
تیرا رب وہ فصیل رکھتا ہے۔

حفصہ صدیقی

صراطِ مستقیم

صراطِ مستقیم

شاید کہیں
اسی دنیا میں
صراطِ مستقیم
زانیوں کے لئے بھی ہے۔
جیسے قاتلوں کے لئے
قصاص ہے۔
عاصیوں کے لیے
مغفرت کا لباس ہے۔
جیسے حاجیوں کے لیے
عرافات ہے۔

 

حفصہ صدیقی

 

 

“Sirat e Mustaqqeem”
(The Path of the Righteous)

Perhaps in this world too,
There is a Sirat e Mustaqqeem
For the adulterers;
Like there is blood money-
To wipe away the sins
Of murderers.
Like there is the cloak of forgiveness,
For the sinners;
Like there is Arafaa’t –
For the worshippers.

Hafsa Siddiqui