“حسرت ان غنچوں پہ ہے۔۔۔”

“حسرت ان غنچوں پہ ہے ۔۔۔”

اختر لاج کے باغیچے میں ایک مخصوص بساند سانسوں اور تخیلات کو معطر کیے رہتی تھی۔۔۔یہ نادیدہ بلا ، نا مانوس قوت شامہ کے لیے آزمائش سے کم نہ تھی۔
اصل میں بیگم اختر کے گھر ” پالتو خرگوشوں” کی بہتات تقسیمِ ہند سے قبل انگریز فوج ،شہر میں برساتی نالوں میں کاءی اور مینڈکوں کی مجموعی تعداد کے۔۔۔غالبا برابر ہو چکی تھی۔لال لال آنکھوں میں سرخ ڈورے سمیٹے اور لمبے کانوں والے ” سرخ و سپید” خرگوش ان کی آنکھوں کے تارے تو کیا مثل ماہ تاب تھے۔

کڑکڑاتے جون میں بیگم اختر نے بمع اہل و عیال گرمی کی چھٹیاں گزارنے اپنی ہمشیرہ باجی زرینہ کے یہاں کشمیر جانے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ جانے سے قبل انھوں نے در و دیوار کی خوب صفائی کروائی ،قا لین اور پردوں کی دھلائی کروائی اوراپنی کراکری آواز سے ۔۔۔ساتھ ساتھ گھریلو ملازمین کی بھی۔
ثریا، فرحت، زکیہ۔۔۔ساری دخترانِ نیک اختر نے پر زور اشتیاق کے ساتھ رخت سفر باندھا۔ اپنے پالتو خرگوشوں سے دوری کو بہ مشکل گوارا کیا کہ کشمیر کےتازہ رسیلے سیب و خوبانی نوش جاں کریں گے۔ برفیلے پہاڑوں کی بلندیوں سے بہتے ٹھنڈے پانی میں ننگے پاؤں چھپاکے ماریں گے اور شاید مقامی افراد میں کوئی سرخ و سپید مثل خورشید “اہل ایماء “، ادھر ڈوبے تو ادھر نکلیں۔۔۔اخروٹوں اور باداموں کی طرح۔
خیر روانگی کا مقرر وقت آن پہنچا۔بیگم اختر نے گاڑی  سوار ہوتے ہوئے ملازمین کی پنچایت بلوائی اور حکم  صادر کیا
تم بدزبان میرے ان معصوم بے زبانوں کا بہت خیال رکھنا۔ ان کا اسی طرح اکرام کرنا جیسے کہ اب تک ہوتا آیا ہے۔
چاچا چوکیدار نے فرمانبرداری سے گردن کو جنبش دی اور ایک مریل سی “جی ” کھنکھار اور کھانسی کے ساتھ ادا کی۔
تم سن رہے ہو چاچا چوکیدار۔۔۔؟ میرے ان چہیتے خرگوشوں کو کھانا ، پانی ، تازہ ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کا خاص الخاص خیال رکھنا۔سن لیا تم لوگوں نے۔۔۔؟یہ بے زبان مجھ سے شکایت تو کیا کریں گے
” چلو جاؤ ٬اب! ”

چاچا چوکیدار نے منہ بسورتے ہوئے واپس گیٹ بند کیا اور بڑبڑاے : اونہہ …ہم کو تو آرام نہیں۔ ان کے لیے آرام کا انتظام ۔۔۔! میں بھی ان کے خوب آرام کا خیال کروں گا

ٹھیک ایک مہینے بعد ، خوب سیر سپاٹے کر کے جب بیگم اختر اپنے دولت خانے پر وارد ہوئیں تو خرگوشوں کا جنگلہ تو تھا مگر خرگوش ندارد۔
چا چا چوکیدار کی اب شامت آئی۔ ان باریش بزرگوار سے جب سختی سے دریافت کیا تو جواب موصول ہوا کہ ان بے زبانوں کو ایک ایک کر کے ایک پراسرار بیماری foot and mouth disease

نے لپیٹ میں لے لیا اور وہ دارفانی سے کوچ کر گئے۔ ان شہیدوں کی اجتماعی قبر کی نشاندھی ایک بڑی سے کیاری کی طرف کی گئی ۔ بیگم اختر اور دخترانِ اختر صبر کا گھونٹ پی کے رہ گئیں ۔ اجل کے سامنے کس کی چلی ہے؟
پر یہ عقدہ جلد ہی کھل گیا۔
ایک دن زکیہ جب آم کھانے کے لیے باورچی خانے میں رکھے فرج کی طرف بڑھی تو اس نے برتن دھوتے چاچا چوکیدار کو ماسی کریمہ سے کہتے سن لیا:
میرے کو اس سے پہلے پتا ہی نہیں تھا کہ ۔۔۔خرگوش کا گوشت کتنا مزیدار ہوتا
” ہیں۔۔۔۔”
زکیہ نے فرج کی اوٹ میں کھڑے ہو کر تمام روح فرسا حقیقت سن لی تھی۔ آنسوں کی لڑی اس کے گالوں کو آبشار کی مانند بھگوتی گئی۔
” ہائے !!! اماں۔۔۔! ہمارے خرگوش۔۔”
اس نے مارے غم کہ دو ہتڑ اپنے سینے پہ مارے اور سیدھی ماں کے پاس سرپٹ دوڑی۔
بیگم اختر تک ماجرا پہنچا اور چاچا چوکیدار کی پھر زبانی دھلائی ہوئی۔ان کا بستر بوریا اٹھا کر سڑک پر سجا دیا گیا کہ چاچا چوکیدار نے چھٹیوں کے دوران ہی خرگوشوں کا ابدی انتظام کر دیا تھا۔ایک ایک خرگوش مختلف تراکیب استعمال کر تے ہوئے لذتِ طعام کے مزے لیے گئےکیونکہ حکم ناطق کے بہ موجب ” خاص الخاص خیال” تو رکھا گیا مگر اسی طرح جیسے عیدقربان سے پہلے بچے بکروں کے ناز اٹھاتے ہیں۔

“حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے…”
بے چارے خرگوش۔۔۔!

تحریر: ڈاکٹر حفصہ صدیقی
Editing: پروفیسر ڈاکٹر نکہت یاسمین صدیقی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s